آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ ڈاکٹر حمید کارگر نے پچھلے برسوں میں کمپنی کی مسلسل ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بھی پیداوار،مارکیٹ میں توسیع اور خدمات کی بہتری کے حوالے سے اہم اور نمایاں اقدامات انجام دیئے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حرم امام رضا(ع) کے دو نئے ہالز تعمیر ہونے کے ساتھ ہی ان کے لئے ہاتھ سے بنے قالینوں کی تیاری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور اس کے لئے مشہد مقدس اور کاشمر میں موجود دو ورکشاپس میں متعلقہ ہالز کی سائزاور نقشوں کے مطابق قالین تیار کئےجارہے ہيں ۔
آستان قدس رضوی کی قالین کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مارکیٹ کو توسیع دینے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حرم امام رضا(ع) کے لئے قالینوں کی تیاری کےعلاوہ دیگر خریداروں کی ضروریات کو پورا کرنے اور مارکیٹ کی توسیع کے لئے تقریباً ایک ہزار مربع میٹر قالین دیگر ذرائع کے ذریعہ اور کمپنی کی نگرامی میں تیار کیا جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ قالینیں جو مختلف صوبوں میں کمپنی کی نگرانی اور رہنمائی سے تیا کی جائیں گی ان میں متنوع خصوصیات ہوتی ہیں جن میں نقشوں کے حوالے سے تخلیقی صلاحیت،مارکیٹ اور خریداروں کا سلیقہ اور ضرورت وغیرہ شامل ہے ۔
نئی پیداوار اور توسیعی منصوبے
ڈاکٹر کارگر نے کمپنی کی نئی پیداوار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حرم امام رضا(ع) کے قالین سے مختلف قالین بورڈ اور پینلز تیار کئے جائیں گے ،اس کے علاوہ قالین نویسی کے فریم بنانا یہ نئے فن پارے ہیں جنہیں مختلف سائز اور مختلف اشعار و مضامین کے ڈیزائن اور تیار کئے جائیں گے، اور ہر قالین کے ٹکڑے پر باقاعدہ تحریر ہوگا کہ یہ ٹکڑا کس جگہ استعمال ہوتا تھا۔
آستان قدس رضوی کے قالین کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں زیر تعمیر توسیعی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آلات و ابزار اور عملی مراحل میں مسلسل بہتری آرہی ہے ، قالین دھونے کے یونٹس کے لئے صنعتی گرم خانے یا واشنگ یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی کمپنی کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ قالین دھونے والے یونٹس میں گذشتہ دو برسوں میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے اس کے ساتھ رواں سال میں ان جگہوں پر صنعتی گرم خانے اور ہوا کے ذریعے حشک کرنے والی ٹنل کی تعداد بھی بڑھائی جائے گي ۔
جناب کارگر نے بتایا کہ اس کام کے لئے مالی وسائل پورا ہونے کے بعد کسی دوسری کمپنی کو کام کا ٹھیکہ دیا جائے گا اور توقع ہے کہ متعلقہ آلات و ابزار کی تنصیب کے بعد جولائی 2026 تک یہ مشینری کام کرنا شروع کر دے گی۔